12 جولائی 2011 - 19:30

شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے مسلسل میزائل حملوں میں 61افرادجاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ابنا: مقامی ذرائع کے مطابق مرنیوالوں میں کچھ غیرملکی بھی شامل ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق حملوں کے بعد دونوں ایجنسیوں کے سرحدی علاقوں میں مزید جاسوس طیاروں کی پروازیں جاری ہیں جس سے مقامی لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسند تھے۔ حملے کے بعد ملبے سے مرنے والوں کی نعشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تاہم زخمیوں میں متعدد افراد کی حالت نازک ہونے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق منگل کی علی الصبح امریکی جاسوس طیارے نے جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے برمل میں ایک گاڑی پر دو میزائل فائر کئے جس سے کم از کم10 افراد ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے۔ ادھر شمالی وزیرستان میں شوال کے علاقے درے نشتر میں گھر اور گاڑی پر بھی امریکی جاسوس طیارے نے 4 میزائل داغے جس کے نتیجے میں18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اس سے قبل پیر اور منگل کی درمیانی رات شمالی وزیرستان کے علاقے گرویک میں ہونے والے2 میزائل حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 25 ہوگئی۔ امریکی جاسوس طیارے نے ایک مکان پر8 اور گاڑی پر2 میزائل فائر کئے تھے جس سے مکان اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ چندگھنٹے بعدجنوبی وزیرستان میں ایک اورحملے میں مزید5مشتبہ جنگجومارے گئے۔ پاکستان کے ایک سینئرسیکورٹی عہدیدارنے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ حالیہ ہلاکتوں کی تعدادیقیناًزیادہ ہے اوریہ پاکستان اورامریکا کے درمیان پہلے سے کشید ہ تعلقات میں مزید اضافہ کرے گا۔ادھر پولیٹیکل انتظامیہ نے ڈورن حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ان حملوں میں مرنے والے افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔ نمائندہ جنگ کے مطابق شمالی وزیرستان کے پاک افغان سرحدی علاقہ درے میلہ میں واقع مولوی سلطان نامی وزیر/ملکشائی کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں غیرملکیوں سمیت 18افراد مارے گئے۔ ایجنسی کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں نے جون سے لے کر اب تک ہونیوالے ڈرون حملوں میں مجموعی طور پر 135افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈرون حملوں میں مرنے والوں کی تعداد61 ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169